اردو شاعریغزلیں

نے مہرہ باقي نے مہرہ بازي – غزل علامہ اقبال

Ny mohra baqi ny mohra bazi - Ghazal by Poet Allama Iqbal

نے مہرہ باقي ، نے مہرہ بازي
جيتا ہے رومي ، ہارا ہے رازي

روشن ہے جام جمشيد اب تک
شاہي نہيں ہے بے شيشہ بازي

دل ہے مسلماں ميرا نہ تيرا
تو بھي نمازي ، ميں بھي نمازي!

ميں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے ميں ملا ہوں غازي

ترکي بھي شيريں ، تازي بھي شيريں
حرف محبت ترکي نہ تازي

آزر کا پيشہ خارا تراشي
کار خليلاں خارا گدازي

تو زندگي ہے ، پائندگي ہے
باقي ہے جو کچھ ، سب خاک بازي

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button