خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی

خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی

دور تھے تو زندگی بے رنگ تھی بے کیف تھی
ان کے کوچے میں گئے تو زندگی اچھی لگی

میں نہ جاؤں گا کہیں بھی در نبی کا چھوڑ کر
مجھ کو کوئے مصطفیٰ کی چاکری اچھی لگی

ناز کر تو اے حلیمہ سرور کونین پر
گر لگی اچھی تو تیری جھونپڑی اچھی لگی

والہانہ ہو گئے جو تیرے قدموں پر نثار سرور
کون و مکاں کی سادگی اچھی لگی

آج محفل میں نیاز کی نعت جو میں نے پڑھی
عاشقانِ مصطفیٰ کو وہ بڑی اچھی لگی

محمد عبد الستار نیازی

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button