نعتیں

بلائیں گے تجھ کو شاہ مد ینہ ملے گا تجھے رحمتوں کا خزینہ

بلائیں گے تجھ کو شاہ مدینہ
مدینہ کہے جا مدینہ کہے جا

ملے گا تجھے رحمتوں کا خزینہ
مدینہ کہے جا مدینہ کہے جا

تجھے آنسوؤں میں ستارے ملیں گے
ان آنکھوں کو ان کے نظارے ملیں گے

درخشاں رہے گا سدا تیرا سینہ
مدینہ کہے جا مدینہ کہے جا

مسافر ہے تو اور منزل وہی ہے
وہ دریائے رحمت ہیں ساحل وہی ہے

وہی ناخدا ہیں وہی ہیں سفینہ
مدینہ کہے جا مدینہ کہے جا

وہ شہر نبی ہے بڑی شان والا
دو عالم میں پھیلا ہے جس کا اجالا

انگوٹھی ہیں شمس و قمر تو نگینہ
مدینہ کہے جا مدینہ کہے جا

عقیدت کا دامن نہ ہاتھوں سے چھوٹے
تعلق دیار نبی سے نہ ٹوٹے

ادب شرط ہے لازمی ہے قرینہ
مدینہ کہے جا کہے جا

یہ خوشبو یہ گلزار شاہد سبھی ہیں
عنادل کے لب پر ترانے یہی ہیں

گلوں میں بسا ہے نبی کا پسینہ
مدینہ کہے جا مدینہ کہے جا

تعلیم ان کی معراج ہی کا بیاں ہو
ہوں نعتیں نبی کی یہ تیری زباں ہو

رجب کا یہ آیا ہے پیارا مہینہ
مدینہ کہے جا مدینہ کہے جا

محمد نعیم دہلوی

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button