نعتیں

میرے کملی والے کی شان ہی نرالی ہے

میرے کملی والے کی شان ہی نرالی ہے

دو جہاں کے داتا ہیں سارا جگ سوالی ہے

خُلد جس کو کہتے ہیں میری دیکھی بھالی ہے

سبز سبز گنبد ہے اور سنہری جالی ہے

چھاؤں مہکی مہکی ہے دھوپ ٹھنڈی ٹھنڈی ہے

شہر مصطفٰی ﷺ تیری بات ہی نرالی ہے

وہ بلالؓ حبشی ہوں یا اویس قرنی ہوں

ان ﷺ پہ مرنے والوں کی ہر ادا نرالی ہے

ہر طرف مدینے میں بھیڑ ہے فقیروں کی

ایک دینے والا ہے کل جہاں سوالی ہے

قبر کے اندھیرے کا اے سعید کیا خطرہ

شمع مصطفائی سے میں نے لو لگا لی ہے

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button