یا محمد یا محمد ہے جو بھی بولے گا اپنے لئے رحمت کے وہ دروازے کھولے گا
یا محمد یا محمد ہے جو بھی بولے گا
اپنے لئے رحمت کے وہ دروازے کھولے گا
نام نبی کی برکت سے جھولی بھر جاتی ہے
نام نبی کا صدقہ ساری دنیا کھاتی ہے
دنیا بھی اس کی دیوانی نام جو یہ لے گا
یا محمد یا محمد جو بھی بولے گا
نام نبی کی خاطر جس نے جان لٹائی ہے
نام رہے گا زندہ اس کا ایسا فدائی ہے
اس کے گناہوں کو محشر میں رب نہ کھولے گا
یا محمد یا محمد یا جو بھی بولے گا
چاند کیا دوٹکڑے پل میں ایک اشارے سے
ان کا نور چھلکتا ہے ہر ایک ستارے سے مانے گا
جو نور نبی کو وہ نہ ڈولے گا
یا محمد یا محمد یا جو بھی بولے گا
لب پر درود پاک سجا ہو اور میں سو جاؤں
خواب میں ان کا جلوہ پا کر اُس میں کھو جاؤں
ناز کرے گی جنت اُس پہ جو یوں سولے گا
یا محمد یا محمد یا جو بھی ہولے گا
جام کر کے پی لے گا وہ ساقی کوثر سے
رحمت کی خوشبوئیں آئیں گی اس کے گھر سے
جشن ولادت کا پرچم ہاتھوں میں جو لے گا
یا محمد یا محمد جو بھی بولے گا
جائیں مدینے مل کے ہم مہران تمنا ہے
بن جائیں سرکار کے ہم مہمان تمنا ہے
دیکھ مقدر میں مولا کب خوشیاں گھولے گا
یا محمد یا محمد جو بھی بولے گا
مهران شیخ قادری