اردو شاعریغزلیں

یہ دیر کہن کیا ہے انبار خس و خاشاک – غزل علامہ اقبال

Ye Dair-e-Kuhan Kya Hai Anbaar-e-Khas-o-Khashaak - Ghazal by Poet Allama Iqbal

یہ دیر کہن کیا ہے انبار خس و خاشاک
مشکل ہے گزر اس میں بے نالۂ آتش ناک

نخچیر محبت کا قصہ نہیں طولانی
لطف خلش پیکاں آسودگئ فتراک

کھویا گیا جو مطلب ہفتاد و دو ملت میں
سمجھے گا نہ تو جب تک بے رنگ نہ ہو ادراک

اک شرع مسلمانی اک جذب مسلمانی
ہے جذب مسلمانی سر فلک الافلاک

اے رہرو فرزانہ بے جذب مسلمانی
نے راہ عمل پیدا نے شاخ یقیں نمناک

رمزیں ہیں محبت کی گستاخی و بیباکی
ہر شوق نہیں گستاخ ہر جذب نہیں بیباک

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button