نعتیں

یادوں میں وہ شہرِ مدینہ منظر منظر آج بھی ہے

یادوں میں وہ شہرِ مدینہ منظر منظر آج بھی ہے
ایک زمانہ گذرا لیکن، رُوح معطّر آج بھی ہے

کوئی نظر خضریٰ سے اٹھ کر اس کے چہرے پر نہ گئی
یہ احساس ِ ندامت یارو چاند ے رُخ پر آج بھی ہے

مدحِ نبی کی نغمہ سرائی حمد و ثناء کی گُل پاشی
کَل بھی یہی تھا اپنا مقدر، اپنا مقدر آج بھی ہے

وہ دیدار کا موسم ، ساقی پیشِ نظر اور جامِ دید
برسوں بیت گئے اس رُت کو ہاتھ میں ساغر آج بھی ہے

عہد ِ ادیب اور مدحِ محمد کوئی آج کی بات نہیں
چودہ صدیوں سے یہ چرچا یونہی گھر گھر آج بھی ہے

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button