نعتیں

اُٹھو بے نواؤ اسیرو فقیرو کرو عید

اُٹھو بے نواؤ اسیرو فقیرو کرو عید تم بھی کریم آ گئے ہیں
یتیمو یہی گیت گاتے چلو تم کرم بن کے دُر یتیم آ گئے ہیں

جھکا ہے حرم اور جھلمل ستارے ہیں مہکے گلستاں یہ رنگیں نظارے
کسے دے رہے ہیں سلامی یہ سارے یقیناً وہ نور قدیم آ گئے ہیں

ہر اک بے زباں کو زباں مل گئی ہے مصیبت زدوں کو اماں مل گئی ہے
یہ رحمت کی گھڑیاں یہ پُر کیف لمحے جہاں میں وہ قلب سلیم آ گئے ہیں

گھنے ہو گئے آج رحمت کے سائے وہ ہیں آج اپنے تھے کل جو پرائے
دو عالم کے مولا جو تشریف لائے عجب انقلاب عظیم آ گئے ہیں

جو آغوشِ رحمت میں پالے گئے ہیں جو رحمت کے سانچے میں ڈھالے گئے ہیں
مبارک ہو اہلِ زمیں کو وہ ہادی دکھانے رہ مستقیم آ گئے ہیں

گناہوں کے کاندھوں پہ دفتر اٹھائے مصیبت کے مارے جہاں کے ستائے
کرم یا محمدؐ کہ محفل میں تیری لئے غم کے نالے اشیم آ گئے ہیں

یہ کس نے فضاؤں میں جلوے بکھیرے یہ کس کے تبسم سے نکلے سویرے
بہاروں کے ہیں کس کے قدموں میں ڈیرے محاسن کے ناصر قسیم آگئے ہیں

سید ناصر حسین چشتی

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button