اردو شاعریغزلیں

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب – غزل علامہ اقبال

Shaoor-o-Hosh-w-Khird ka Mamla hai Ajeeb - Ghazal by Poet Allama Iqbal

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب
مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب

میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا
مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب

اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف
مری نوا میں نہیں طائر چمن کا نصیب

سنا ہے میں نے سخن رس ہے ترک عثمانی
سنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعر غریب

سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا
ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button