احادیثصحیح البخاری

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر 129

Sahih al Bukhari, The Book of Knowledge, Hadith No. 129

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا ، اس نے کہا کہ میرے باپ نے قتادہ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) حضرت معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے معاذ ! میں نے عرض کیا ، حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوبارہ ) فرمایا ، اے معاذ ! میں نے عرض کیا ، حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سہ بارہ ) فرمایا ، اے معاذ ! میں نے عرض کیا ، حاضر ہوں ، اے اللہ کے رسول ، تین بار ایسا ہوا ۔ ( اس کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں ، اللہ تعالیٰ اس کو ( دوزخ کی ) آگ پر حرام کر دیتا ہے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر نہ کر دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اگر تم یہ خبر سناؤ گے ) تو لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے ( اور عمل چھوڑ دیں گے ) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیث رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو ۔

I was informed that the Prophet (ﷺ) had said to Mu`adh, "Whosoever will meet Allah without associating anything in worship with Him will go to Paradise.” Mu`adh asked the Prophet, "Should I not inform the people of this good news?” The Prophet (ﷺ) replied, "No, I am afraid, lest they should depend upon it (absolutely).

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِمُعَاذٍ ‏”‏ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏”‏‏.‏ قَالَ أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ ‏”‏ لاَ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا ‏”‏‏.‏
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমার নিকট বর্ণনা করা হয়েছে যে, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মু‘আয (রাঃ)-কে বলেছেনঃ যে ব্যক্তি আল্লাহর সঙ্গে কোনরূপ শির্‌ক না করে তাঁর সাথে সাক্ষাৎ করবে সে জান্নাতে প্রবেশ করবে। মু‘আয (রাঃ) বললেন, ‘আমি কি লোকদের সুসংবাদ দেব না?’ তিনি বললেন, ‘না, আমার আশংকা হচ্ছে যে, তারা এর উপরই ভরসা করে বসে থাকবে।’ (১২৮) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ১২৬, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ১৩১)

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button