نعتیں

رہے جاتے ہیں یہ ارماں ہائے میرے سینے

رہے جاتے ہیں یہ ارماں ہائے میرے سینے میں
نہ کعبے کی گلی دیکھی نہ پہنچا میں مدینے میں

سنا ہے نور کی برسات ہوتی ہے مدینے میں
الہی ایک چھینٹا آ ۔ لگے ہم سب کے سینے میں

محمد اس طرح تشریف فرما ہیں مدینے میں
کہ جیسے سورۃ یسین ہے قرآن کے سینے میں

مزہ کیا خاک آئے دور رہ کر ایسے جینے میں
که پروانہ یہاں تڑپے جلے شمع مدینے میں

محمد کی جدائی آگ بھڑکاتی ہے سینے میں
رواں جب دیکھتا ہوں قافلے حج کے مہینے میں

غریب جائے کہاں یارب تڑپتی روح کو لے کر
تیرے محبوب کا صدقہ تو پہنچا دے مدینے میں

 محمد حسین غریب

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button