نعتیں
نور والے کا مہینہ آ گیا رحمتوں کا لے خزینہ آ گیا
نور والے کا مہینہ آ گیا
رحمتوں کا لے خزینہ آ گیا
پڑھ رے ہیں سب قصیدے نور کہ
آ گیا نور مدینہ آ گیا
اشکوں کی برسات جاری ہو گی
یاد آقا کا مدینہ آ گیا
جان مرجھائے دلوں میں آ گئی
جان رحمت جگ مدینہ آ گیا
آپ کی آمد کو سن کر بت کدہ
گر گیا بت کو پسینہ آگیا
کیسے یہ احسان اُن کا بھولیں ہم
جینے کا ہم کو قرینہ آ گیا
وہ بلا لیتے ہیں اُسی کو بزم میں
جس کو جام عشق پینا آ گیا
جب پکارا المدد یا مصطفے
بچ کر طوفاں سے سفینہ آ گیا
