نعتیں

نعت سرکار کی پڑھتاہوں میں

نعت سرکار کی پڑھتا ہوں میں
بس اسی بات سے گھر میں میرے رحمت ہوگی

اک تیرا نام وسیلہ ہے میرا
رنج و غم میں بھی اسی نام سے راحت ہو گی

یہ سُنا ہے کہ بہت گور اندھیری ہو گی
قبر کا خوف نہ رکھنا اے دل

وہاں سرکار کے چہرے کی زیارت ہو گی
اُن کو مختار بنایا ہے میرے مولا نے

خلد میں بس وہی جا سکتا ہے
جس کو حسنین کے بابا کی اجازت ہو گی

دو جہاں میں اُسے پھر کون پناہ میں لے گا
ہوگار سوارو سر محشر وہ جسے سیدہ زہرا کے بچوں سے عداوت ہوگی

کہیں یسین، کہیں طہ، کہیں والیل آیا
جس کی قسمیں میرا رب کھاتا ہے

کتنی دلکش میرے محبوب کی صورت ہو گی
حشر کا دن بھی عجب دیکھنے والا ہو گا

زلف لہرا کے وہ جب آئیں گے
پھر قیامت میں بھی اک اور قیامت ہو گی

اُن کے در پر جو پڑے ہیں تو بڑی موج میں ہیں
لوٹ کر آئیں گے جب اُس در سے

میرے دل تو ہی بتا کیا تیری حالت ہوگی
میرا دامن تو گناہوں سے بھرا ہے الطاف

اک سہارا ہے کہ میں اُن کا ہوں
اسی نسبت سے سرِ حشر شفاعت ہوگی

سید الطاف حسین شاہ کاظمی

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button