نعتیں

کوئے نبی سے آنہ سکے ہم راحت ہی کچھ ایسی تھی

کوئے نبیﷺ سے آنہ سکے ہم راحت ہی کچھ ایسی تھی
یاد رہی نہ جنت ہم کو وہ جنت ہی کچھ ایسی تھی

تکتے رہے یوسفؑ جیسے بھی حشر میں ان کے چہرے کو
جب پوچھا تو کہنے لگے وہ صورت ہی کچھ ایسی تھی

بولو اے جبریلؑ کہ ان کے کیوں کرتلوے چومے تھے
کہنے لگے جبریلؑ کہ ان کی عظمت ہی کچھ ایسی تھی

دنیا میں سرکارﷺ کی نعتیں پڑھتے رہے ہر اک لمحہ
قبر میں بھی تھی نعت لبوں پر عادت ہی کچھ ایسی تھی

پاس بلایا پاس بٹھایا جلوہ دکھایا خالق نے
یہ تو آخر ہونا ہی تھا چاہت ہی کچھ ایسی تھی

قبر میں حاکم جب پہنچے تو ہنس کے نکیروں نے دیکھا
کیوں نہ فرشتے پیار سے ملتے نسبت ہی کچھ ایسی تھی

احمد علی حاکم

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button