How to start a Fish Farming Business in Pakistan

How to Start a Fish Farming Business in Pakistan
Fish farming is a very lucrative business. If you already have a dairy, cattle, r poultry farm on your land, it is worth the money, meaning you will get their food for fish free of dung and litter. Fish is the ultimate source of protein, vitamin A and vitamin D. Ponds are successful in clay, sandy soils are not suitable. Make 4 pounds per acre as they are easy to handle. Fish seeds in one acre should not be less than 1000 and not more than 3000.


مچھلی پال ہو جا خوشحال
فش فارمنگ ایک بہترین منافع بخش کاروبار ہے اگر آپ کی زمین میں ڈیری ، کیٹل یا پولٹری فارم پہلے سے موجود ہو تو سونے پے سہاگہ ہوتا ہے یعنی آپ کو مچھلیوں کیلئے ان کی خوراک گوبر اور بیٹھوں سے مفت میں حاصل ہوگی. مچھلی پروٹین ، وٹامن اے اور وٹامن ڈی کا آخری ذریعہ ہوتی ہے

چکنی مٹی میں تالاب کامیاب رہتا ہے ، ریتیلی زمین مناسب نہیں ہوتی ایک ایکڑ میں 4 تالاب بنائیں کیونکہ ان کو سنبھالنا آسان رہتا ہے ، ایک ایکڑ زمین میں مچھلی کا بیج 1000 سے کم اور 3 ہزار سے زیادہ نہ ہو

مچھلی کا بیج دریاء کی نرسری سے لانا چاہئے، تالاب کی گہرائی پانچ فٹ سے سات فٹ تک ہونی چاہئے ، بیج اتنا ڈالنا چاہئے جتنی آپ سے خوراک گوبر ، بیٹھ کا بندوبست ہوسکے ، تالاب میں گھاس وغیرہ نہیں اگنا چاہیئے اس سے مچھلی اچھی طرح پروان نہیں چڑھتی

مچھلی کی خاص اقسام #رہو جس کو سندھی میں کُر ڑو کہتے ہیں ، مُراکھو ، گلفام اچھی نسلیں ہیں

پانی کا رنگ سبز ہونا چاہئے۔ اگر کبھی براؤن ہوجائے تو یہ بھی ایک اچھی علامت ہے تاہم ایسے تالاب میں جلد از جلد کھاد ڈالنی چاہئے تاکہ اسکا سبز رنگ واپس آجائے

تالاب کا پانی باقاعدگی سے چیک کرنا چاہیئے تاکہ اس کی کوالٹی برقرار رہے اور آکسیجن کی کمی نہ ہونے پائے، نقصاندہ گیسوں اور مادہ جات کا اضافہ نہ ہو۔

تالاب میں صبح سویرے آکسیجن کی کم از کم مقدار ۵ پی پی ایم (ملی گرام فی لٹر) ہونی چاہئے۔ اگر آپ کے تالاب میں غروب آفتاب کے وقت پی ایچ 9.5 سے زیادہ رہنے لگے تو کھاد کا استعمال بند کردینا چاہیئے

جب پی ایچ 9.00 سے کم ہوجائے تو کھاد پھر سے شروع کردیں لیکن پہلے سے کم مقدار میں۔

اگر آپ کے تالاب میں پہلے سے آبی پودے موجود ہیں اور انہیں ختم کرنا مشکل ہے تو دیگر مچھلیوں کے ساتھ گراس کارپ بھی ڈالئے۔

اگر ممکن ہو تو تالاب کو خالی کرکے ہر سال سکھایا جائے یہاں تک کہ اس میں دراڑیں پڑ جائیں۔

اسطرح زمین آکسیڈائیز ہوگی اور اس میں موجود فاسفورس اور دوسرے اجزا دوبارہ قابل استعمال حالت میں آجائیں گے اور نقصاندہ جراثیم بھی ختم ہوجائیں گے۔

تالاب میں نمکیات نہ ہونے کے برابر ہوں یعنی پانی انسانی یا مویشیوں کے پینے کے لائق ہو۔ نقصان دہ گیس جیسا کہ امونیا اور ہائڈروجن سلفائیڈ وغیرہ کے تالاب میں جمع ہونے سے بچا جاسکتا ہے اگر خوراک اور گوبر کو تالاب کے فرش پر جمع نہ ہونے دیا جائے۔

عموماً امونیا تالاب میں کم مقدار میں موجود ہوتی ہے مگر پانی کی کوالٹی خراب ہو یا پی ایچ زیادہ ہو تو یہ مچھلیوں کیلئے انتہائی نقصان دہ بن جاتی ہے۔

مچھلی فارم پر دن رات چوکیداری سسٹم ہو تاکہ کوئی چوری یا کسی زہریلی چیز ڈالنے کا امکان نہ رہے

مچھلی کا بیج فروری سے مارچ کے مہینے میں تالاب میں چھوڑنا چاہئے کیونکہ گرمی میں مچھلی کی پرورش اچھی ہوتی ہے اور سردی کے شروع میں تیار ہوجاتی ہے

پانی تبدیل کرنا ہو تو لفٹ کے ذریعے نکال کر تبدیل کیا جاسکتا ہے جس کیلئے الگ تالاب برابر میں ہو جس میں تازہ پانی بھر کر مچھلی کو شفٹ کیا جائے ، اگر تالاب میں نہری پانی استعمال ہونا ہے تو داخلی راستے پر کم از کم ۶۰ سوراخ فی انچ والی جالی لگانی چاہئے باریک سوراخ والی جالی لگانے سے نہروں اور زرعی زمینوں سے مچھلی کے انڈے اور بچے تالاب میں داخل نہیں ہو سکتے، اسطرح آپ کی پالی ہوئی مچھلی بہتر انداز میں بڑھتی رہے گی۔

کامیاب فش فارمنگ کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپکے تالاب کے ساتھ مچھلی کا بچہ پالنے کیلئے نرسری بھی ہو تاکہ آپکے تالاب کیلئے بوقت ضرورت فش سیڈ مہیا ہو سکے۔ نرسری تالاب کے کل رقبہ کے 10 فیصد تک ہونی چاہیئے ۔

نوٹ : یہ بزنس شروع کرنے سے پہلے آپکی پوری دلچسپی اور دن رات کی محنت دو اہم شرطیں ہیں، اسکے بعد اپنے علاقے کے کم از کم 3 سے 5 فش فارم وزٹ کریں، فارمرز سے اہم پوائنٹ نوٹ کریں، مکمل سال کی فیزیبلٹی بنائیں، سیڈ سے فروخت تک کے تمام خرچہ جات کا حساب کتاب کرنے کے بعد اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بزنس منافع بخش ہے تو اللہ پر توکل کرتے ہوئے بسم اللہ کریں انشاءاللہ آپ کامیاب ہوں گے

admin

Read Previous

How to get eggs from chickens in winter

Read Next

The benefits of Goat’s Milk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *