نعتیں

در نبی پر پڑا رہوں گا، پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا

در نبی پر پڑا رہوں گا، پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
کبھی تو قسمت کھلے گی میری کبھی تو میرا اسلام ہوگا

اسی توقع پہ جی رہا ہوں یہی تمنا چلا رہی ہے
نگاہ لطف و کرم نہ ہوگی تو مجھ کو جینا حرام ہوگا

یہاں نہ مقصد ملا تو کیا ہے وہاں لے گا طفیل حضرت
ہمارا مطلب ہوا دھرا ہے نہ صبح ہوگا تو شام ہوگا

دیار رحمت پہ ہو گا قبضہ اُن ہی کا ہر سو بجے گا ڈنکا
جو حشر ہوگا تو دیکھ لینا انہی کا سب انتظام ہوگا

 شفیع محشر لقب ہے اُن کا اُسے شفاعت سے کام ہوگا
ہے سب کا دارو مدار اس پر وہی مدارالمہام ہوگا

خلاف معشوق کچھ ہوا ہے نہ کوئی عاشق سے کام ہوگا
خُدا بھی ہوگا اُدھر ہی اے دل جدھر وہ عالی مقام ہوگا

ہوئی جو کوثر پہ باریابی تو کیف میکش کی دھج یہ ہوگی
بغل میں مینہ نظر میں ساقی خوشی سے ہاتھوں میں جام ہو گا

کیف میکش

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button