الرحمٰن نام کا مطلب
الرحمٰن نام کا مطلب ہے بہت مہربان اور بہت ہی رحم کرنے والا
الرحمٰن نام کے فائدے
ہر نماز کے بعد سو مرتبہ اَلرَّحْمٰن پڑھنے والے کے دل کی سختی اور غفلت جاتی رہتی ہے
الرحمٰن نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
الرحمن علمیت کے لحاظ سے اسم اللہ کے برابر برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ کہو یا رحمن کہو
قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی (بنی اسرائیل: ۱۱۰)
’’کہہ دیجیے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر، ان میں سے کچھ بھی کہہ لو، اللہ کے تو سب نام ہی بہتر ہیں ۔‘‘
اب یاد رکھنا چاہیے کہ کفارِ قریش اسم اللہ سے تو واقف تھے، مگر اسم رحمن سے ان کو ذرا واقفیت نہ تھی۔
اسم اللہ کے متعلق آیاتِ ذیل پر غور کرو کہ کفار اس اسم کا استعمال کیوں کر کرتے تھے۔
وَ لَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ (العنکبوت: ۶۱)
’’اگر تو ان سے پوچھے گا کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا؟ اور سورج چاند کو کس نے کام میں لگایا؟ تو وہ کہہ دیں گے، اللہ نے۔‘‘
وَ لَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ (العنکبوت: ۶۳)
’’اگر تو ان سے پوچھے، کس نے آسمان سے پانی اتارا؟ پھر زمین کو موت کے بعد اس پانی سے زندہ کیا؟ تو وہ کہہ دیں گے، اللہ نے۔
وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَنْ خَلَقَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ (الزخرف: ۸۷)
’’اگر تو ان سے پوچھے کہ ان کو کس نے پیدا کیا؟ تو کہہ دیں گے اللہ نے۔‘‘
آیاتِ بالا سے ظاہر، کہ کفارِ عرب، خالقِ ارض و سما اور منزل باراں اور خالقِ انسان اللہ ہی کو جانتے تھے مگر وہ اسم رحمن سے ہمیشہ سے انکار ہی کیا کرتے تھے۔
وَاِِذَا قِیْلَ لَہُمْ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ (الفرقان: ۶۰)
’’جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو۔ تب وہ کہتے ہیں کہ رحمن کیا ہوتا ہے۔ (شاید ان کو شک ہوتا ہو گا کہ رحمن بھی کوئی چیز ہو گی)۔‘‘
وَ ہُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ (الانبیاء: ۳۶)
’’اور یہی تو وہ ہیں جو کہ رحمن کے ذکر سے انکاری ہیں ۔‘‘
ان آیات سے واضح ہوا کہ کفار اسم پاک رحمنذ سے آگاہ بھی نہ تھے اور انکاری بھی۔ اب یہ ثابت ہو گیا کہ اسم رحمن وہ ہے جس سے اسلام ہی نے لوگوں کو وقف کیا۔ بے شک یہ اسلام ہی کے لیے موزوں و شایاں تھا کہ اس دین میں اسم رحمن کا فیضان ہوتا کیوں کہ رحمن رحمت سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور رحمت ہی وہ دولت ہے، جس کے دروازے اسالم نے پورے طور پر عالم و عالمیان کے لیے کھول دئیے ہیں ۔ ہاں یہ رحمت ہی ہے جو میاں بیوی کے رشتے کو مضبوط کرتی ہے۔
وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً﴾ (الروم: ۲۱)
’’اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی ہے۔‘‘
ہاں یہ رحمت ہی ہے جو اولاد کو والدین کے سامنے مؤدب و فرماں بردار بنا دیتی ہے۔
وَ اخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ (بنی اسرائیل: ۲۴)
’’اور عاجزی و محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا۔‘‘
یہ رحمت ہی ہے، کہ بعض بندوں کو بعض بندوں سے زیادہ مختص بنا دیتی ہے۔
یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ (آل عمران: ۷۴)
’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرے۔‘‘
یہ رحمت ہی ہے، جس کی قدر و قیمت دنیا کے جملہ ذخائر و دفائن سے بڑھ کر ہے۔
وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ (الانبیاء: ۱۱۲)
’’اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے، جس سے مدد طلب کی جاتی ہے۔‘‘
یہ رحمن ہی ہے، جس کی خشیت و ادب کا ہمارے قلوب میں ہونا جزوِ ایمان ہے۔
مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ (قٓ: ۲۳)
’’جو رحمن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو۔‘‘
اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ خَلَقَ الْاِِنسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (الرحمن: ۱-۴)
’’رحمن نے قرآن سکھایا، اس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔‘‘
یہ رحمن ہی ہے، جس کے سامنے تمام مخلوق کی حیثیت ایک غلام، ایک بندہ، ایک مرزوق، ایک مربوب کی ہے۔
اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا (مریم: ۹۳)
’’آسمان و زمین میں جو بھی ہے، سب کے سب رحمن کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں ۔‘‘
یہ رحمن ہی ہے، کہ اس کے ہاں عاجز بندوں کے لیے محبت و داد کا لا انتہا خزانہ موجود ہے۔
سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا (مریم: ۹۶)
’’ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے رحمن محبت پیدا کر دے گا۔‘‘
یہ لازم ہے، کہ اسم رحمن کے ساتھ اس کی اپنی خصوصیات سے قلب مسرور، زبان ذاکر، آنکھیں محظوظ اور دماغ مومن مملو ہے۔
اگر اس اسم سے تخلق کی آرزو ہو تو ضرور ہے کہ ہمدردیٔ عامہ اور خیر خواہی تامہ کا خوگر بنے، دل سوزی و شفقت کا آئینہ ہو، تربیتِ ناقصاں اور تعلیمِ جاہلاں کو شیوہ بنائے اور اندریں باب دشمن و دوست سب کے لیے دروازہ کھلا رکھے اور اس طریق میں بھی ﴿وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ﴾ کی نصرت و رعایت کو شمعِ راہ سمجھے۔
وہی ایک ہستی ایسی ہے جس کی رحمت بے پایاں ہے، تمام کائنات پر وسیع ہے اور کائنات کی ہر چیزکواس کا فیض پہنچتا ہے۔ سارے جہان میںکوئی دوسرا اس ہمہ گیر اور غیر محدود رحمت کا حامل نہیں ہے۔ دوسری جس ہستی میں بھی صفت رحمت پائی جاتی ہے اس کی رحمت جزوی اور محدود ہے اور وہ بھی اس کی ذاتی صفت نہیں ہے بلکہ خالق نے کسی مصلحت اور ضرورت کی خاطر اسے عطا کی ہے۔ جس مخلوق کے اندربھی اس نے کسی دوسری مخلوق کے لیے جذبہ رحم پیدا کیا ہے، اس لیے پیدا کیا ہے کہ ایک مخلوق کو وہ دوسری مخلوق کی پرورش اور خوشحالی کا زریعہ بنانا چاہتا ہے۔ یہ بجائے خود اُسی کی رحمت بے پایاں کی دلیل ہے۔
اس مضمون کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نہایت لطیف مثالوں سے واضح فرمایا ہے۔ ایک مثال تو آپ نے یہ دی ہے کہ اگر تم میں سے کسی شخص کا اونٹ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں کھو گیا ہو اور اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اسی اونٹ پر ہو اور وہ شخص اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مایوس ہو چکا ہو یہاں تک کہ زندگی سے بے آس ہو کر ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا ہو، اور عین اس حالت میں یکایک وہ دیکھے کہ اس کا اونٹ سامنے کھڑا ہے ، تو اس وقت جیسی کچھ خوشی اس کو ہوگی ، اس
سے بہت زیادہ خوشی اللہ کو اپنے بھٹکے ہوئے بندے کے پلٹ آنے سے ہوتی ہے۔
دوسری مثال اس سے بھی زیادہ موثر ہے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ
جنگی قیدی گرفتار ہو کر آئے۔ ان میں ایک عورت بھی تھی جس کا شیر خوار بچہ چھوٹ گیا تھا اور وہ مامتا کی ماری ایسی بے چین تھی کہ جس بچے کو پالیتی اسے چھاتی سے چمٹا کر دودھ پلانے لگتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دیکھ کر ہم لوگوں سے پوچھا: کیا تم لوگ یہ توقع کر سکتے ہو کہ یہ ماں اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں آگ میں پھینک دے گی؟ ہم نے عرض کیا: ہرگز نہیں، خود پھینکنا تو درکنار، وہ آپ گرتا ہو تو یہ اپنی حد تک تو اسے بچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔ فرمایا: الله ارحم بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بوَلدهَا . الله کارحم اپنے بندوں پر اس سے بہت زیادہ ہے جو یہ عورت اپنے بچے کے لیے رکھتی ہے۔
اور ویسے بھی غور کرنے سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ وہ اللہ تعالی ہی تو ہے جس نے بچوں کی پرورش کے لیے ماں باپ کے دل میں محبت پیدا کی ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر خدا اس محبت کو پیدا نہ کرتا تو ماں اور باپ سے بڑھ کر بچوں کا کوئی دشمن نہ ہوتا کیونکہ سب سے بڑھ کر وہ ابھی کے لیے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اب ہر شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ جو خدا محبت مادری اور شفقت پدری کا خالق ہے خود اُس کے اندر اپنی مخلوق کے لیے کیسی کچھ محبت موجود ہو گی ۔
اس کا رحیم ہونا اس اطمینان کے لیے کافی ہے کہ جو شخص اس کی خاطر اعلائے کلمتہ الحق کے کام میں جان لڑائے گا اس کی کوششوں کو وہ بھی رائیگاں نہ جانے دے گا۔
کیا شان ہے خدا کی رحیمی و غفاری کی، جو لوگ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھوٹ کے طوفان اٹھاتے ہیں اُن کو بھی وہ مہلت دیتا ہے اور سنتے ہی عذاب کا کوڑ انہیں برسا دیتا ہے۔
برسوں اور صدیوں ڈیل دیتا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت دیےجاتا ہے اور عمر بھر کی نافرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کر دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ اس کی سلطنت میں اگر کوئی شخص یا گروہ اس کے خلاف بغاوت کرنے کے باوجود پکڑا نہیں جا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ دنیا اندھیر نگری اور اللہ تعالیٰ اس کا چوپٹ راجہ ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے اور درگزر سے کام لینا اس کی عادت ہے۔ عاصی اور خاطی کو قصور سرزد ہوتے ہی پکڑ لینا، اس کا رزق بند کر دینا، اس کے جسم کو مفلوج کر دینا، اس کو آنا فانا بلاک کر دینا، سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے، مگر وہ ایسا کرتا نہیں ہے۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ قادر مطلق ہونے کے باوجود وہ نافرمان بندوں کو ڈھیل دیتا ہے، سنبھلنے کی مہلت عطا کرتا ہے اور جب بھی وہ باز آجائیں ، معاف کر دیتا ہے۔
سورہ حم السجدہ آیت ۲ میں ارشاد ہے: تنزيل ومن الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے نازل کردہ۔ اس کا نازل کرنے والا وہ خدا ہے جو اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان (رحمان و رحیم ) ہے۔ نازل کرنے والے خدا کی دوسری صفات کے بجائے صفت رحمت کا ذکر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اُس نے اپنی رحیمی کے اقتضا سے یہ کلام نازل کیا ہے۔ یہ تو ایک نعمت عظمی ہے جوخدا نے سراسر اپنی رحم کی بنا پر انسانوں کی رہنمائی اور فلاح وسعادت کے لیے نازل کی ہے۔ خدا اگر انسانوں سے بے رخی برتا تو انھیں اندھیرے میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا اور کچھ پروانہ کرتا کہ یہ کس گڑھے میں جا کر گرتے ہیں ۔ لیکن یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ پیدا کرنے اور روزی دینے کے ساتھ اُن کی زندگی سنوارنے کے لیے علم کی روشنی دکھانا بھی وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اسی بنا پر یہ کلام اپنے ایک بندے پر نازل کر رہا ہے۔ اب اُس شخص سے بڑھ کر ناشکرا اور آپ اپنا دشمن کون ہوگا جو اس رحمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹا اس سے لڑنے کے لیے دوڑے۔
قرآن مجید کا نازل کیا جانا سراسر اللہ کی رحمت ہے۔ وہ چونکہ اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان ہے، اس لیے اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ تمھیں تاریکی میں بھٹکتا چھوڑ دے اور اس کی رحمت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ قرآن بھیج کر تمھیں وہ علم عطا فرمائے جس پر دنیا میں تمھاری راست روی اور آخرت میں تمھاری فلاح کا انحصار ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ہے اور خالق ہی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی مخلوق کی رہنمائی کرے اور اُسے وہ راستہ بتائے جس سے وہ اپنا مقصدِ وجود پورا کر سکے، اس لیے اللہ کی طرف سے قرآن کی اس تعلیم کا نازل ہو نا محض اُس کی رحمانیت ہی کا تقاضا نہیں ہے، بلکہ اُس کے خالق ہونے کا بھی لازمی اور فطری تقاضا ہے، خالق اپنی مخلوق کی رہنمائی نہ کرے گا تو اور کون کرے گا؟ اور خالق ہی رہنمائی نہ کرے تو اور کون کر سکتا ہے؟ اور خالق کے لیے اس سے بڑا عیب اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس چیز کو وہ وجود میں لائے اسے اپنے وجود کا مقصد پورا کرنے کا طریقہ نہ سکھائے ؟ پس در حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی تعلیم کا انتظام ہونا عجیب بات نہیں ہے، بلکہ یہ انتظام اگر اس کی طرف سے نہ ہوتا تو قابل تعجب ہوتا ۔
AR-RAHMAAN NAME MEANING IN ENGLISH
The All Beneficent, The All-Compassionate, The Most or Entirely Merciful, Forgiver, Kind,